تحریر: مولانا عقیل عباس نوری، جامعۃالنجف سکردو
حوزہ نیوز ایجنسی| جنگ اب سرحدوں پر نہیں، ذہنوں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔ "کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے افکار، کردار اور ترجیحات سے تشکیل پاتا ہے۔" اگر نوجوان بیدار، باکردار اور صاحبِ بصیرت ہوں تو قومیں عروج حاصل کرتی ہیں، اور اگر وہ فکری انتشار، اخلاقی زوال اور تہذیبی غلامی کا شکار ہو جائیں تو ترقی یافتہ وسائل بھی قوم کو تباہی سے نہیں بچا سکتے۔ اکیسویں صدی میں امتِ مسلمہ خصوصاً پاکستان کا نوجوان ایک ایسی خاموش مگر خطرناک جنگ کے بیچ کھڑا ہے جس میں گولیاں نہیں چل رہیں، بلکہ نظریات، تہذیب، میڈیا، معیشت اور خواہشات کے ذریعے اس کی شناخت کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ ثقافتی یلغار ہے جس نے نوجوان کے ذہن، کردار اور مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
قرآن مجید انسان کو متنبہ کرتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا"۔ ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔" (سورۂ تحریم: 6)
یہ آیت صرف عبادات کی تلقین نہیں بلکہ نسلوں کی فکری، اخلاقی اور دینی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہمارے کندھوں پر رکھتی ہے۔
چند بنیادی مسائل
1۔ موبائل فون کا غیر ضروری استعمال
آج نوجوان کی صبح موبائل سے شروع ہوتی ہے اور رات موبائل پر ختم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا نے علم کے دروازے تو کھولے، مگر ساتھ ہی جھوٹ، فحاشی، تشدد، بے مقصد تفریح، مصنوعی شہرت اور اخلاقی بے حسی کا سیلاب بھی لے آیا۔ مختصر ویڈیوز نے مطالعے کی عادت ختم کر دی، اور لائکس و فالورز نے کردار کی جگہ مقبولیت کو کامیابی کا معیار بنا دیا۔
2۔ آن لائن گیمز
آن لائن گیمز ایک نئی لت کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ہزاروں نوجوان گھنٹوں فرضی جنگیں جیتتے ہیں، مگر حقیقی زندگی کی جنگ—تعلیم، کردار، روزگار اور خدمت—میں شکست کھا رہے ہیں۔ وقت، صلاحیت اور ذہنی توانائی ایک ایسی دنیا میں ضائع ہو رہی ہے جس کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔
3۔ بے روزگاری
اس بحران کا ایک اہم پہلو بے روزگاری بھی ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے باوجود جب نوجوان کو باعزت روزگار نہیں ملتا تو مایوسی، اضطراب اور احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ یہ کیفیت بعض اوقات اسے منشیات، غیر اخلاقی سرگرمیوں یا فضول مشاغل کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ اس لیے نوجوان کی فکری اصلاح کے ساتھ معاشی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔
4۔ دینیات سنٹر اور محافل و مجالس کی بے قدری
مگر شاید سب سے بڑا المیہ ہماری ترجیحات ہیں۔ ایک متوسط گھرانہ اپنے بچے کے اسکول، یونیفارم، ٹیوشن اور اکیڈمی پر ہر ماہ ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے، مگر جب دینیات سنٹر، قرآن کلاس یا مسجد کے تعلیمی نظام کے لیے تعاون مانگا جائے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ انجینئر، ڈاکٹر یا افسر بنے، مگر یہ سوچنے کی زحمت کم ہی کرتے ہیں کہ وہ ایک اچھا مسلمان، دیانت دار انسان اور ذمہ دار شہری بھی بنے۔
دینی مراکز محدود وسائل کے ساتھ ہماری نسلوں کا ایمان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں وہ توجہ اور وسائل نہیں ملتے جو معاشرے کی حقیقی ضرورت ہیں۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کی فکری حفاظت چاہتے ہیں تو دینی تعلیم کو خیرات نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھنا ہوگا۔
5۔ علماء سے دوری
ایک اور تشویشناک حقیقت نوجوانوں کی علماء سے دوری ہے۔ افسوس کہ آج بہت سے نوجوان دین مستند علماء سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے غیر مستند مقررین یا چند سیکنڈ کی ویڈیوز سے سیکھ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ دین تحقیق اور استدلال کے بجائے جذبات اور ذاتی پسند کا مجموعہ بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ قرآن نے واضح فرمایا:
"فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ"
"اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔" (سورۂ نحل: 43)
6۔ سیاسی فقدان
سیاسی شعور کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ نوجوان یا تو سیاست سے مکمل لاتعلق ہیں یا خاندانی وابستگی اور برادری کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ دلیل، دیانت، کارکردگی اور قومی مفاد کے بجائے شخصیت پرستی اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسی قومیں اپنا مستقبل خود دوسروں کے حوالے کر دیتی ہیں۔
7۔ سرمایہ داروں کی پرستش
سرمایہ دارانہ نظام نے بھی نوجوان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کامیابی کا مطلب بڑی گاڑی، مہنگا موبائل، برانڈڈ لباس اور زیادہ دولت سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ علم، تقویٰ، خدمت، امانت اور کردار جیسے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ انسان کی قدر اس کے اخلاق سے نہیں بلکہ اس کی جیب سے کی جانے لگی ہے، حالانکہ اسلام کا معیار اس کے بالکل برعکس ہے۔
علامہ اقبال نے نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔
راہ حل
سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
اس کا آغاز گھر سے ہوگا۔ والدین کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کو بھی یکساں اہمیت دینی ہوگی۔ دینیات سنٹرز، مکاتب اور مدارس کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ نوجوان اپنی شناخت سے جڑا رہے۔ علماء کو جدید تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نوجوانوں سے مؤثر مکالمہ کرنا ہوگا، جبکہ تعلیمی اداروں کو ہنر، تحقیق، مطالعہ، کردار سازی اور قومی شعور کو فروغ دینا ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار، ہنر مندی اور صحت مند تفریح کے مواقع پیدا کرے، اور نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلام نہیں بلکہ اس کے مثبت استعمال کرنے والے بنیں۔
نتیجہ
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ثقافتی یلغار کا مقابلہ صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، ایمان، کردار، مضبوط خاندان، فعال دینی اداروں، باشعور قیادت اور بیدار نوجوانوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نسل کی فکری حفاظت نہ کی تو کل ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوگا، لیکن اگر ہم نے نوجوان کو اس کی اصل شناخت، مقصد اور ذمہ داری سے جوڑ دیا تو یہی نوجوان پاکستان اور امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کا ضامن بن سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ